راجن پور(کرائم رپورٹر)بے نظیر برج رواں سال کے آخرتک مکمل کر لیا جائے گا ایف ڈبلیو او مقررہ 30 ماہ کے اندر پل این ایچ اے کے حوالے کردے گا ۔پل کی تعمیر سے راجن پور اور رحیم یار خان اضلاع کے درمیان نہ صرف فاصلے کم ہو جائیں گئے بلکہ تجارتی روابط میں اضافہ سے اس علاقے میں خوشحالی کا ایک نیا باب بھی کھلے گا۔روحانی بزرگ اور سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید کا مدفن ہونے کی بنا پر زائرین کی آمدورفت میں اضافے سے باہمی روابط کو فروغ ملے گا غازی گھاٹ سے گڈوبیراج 300کلو میٹر کے ایریا میں کوئی بھی پل نہ ہے جس کی وجہ سے دریا کے دونوں کنارے رہنے والے مکینوں کے درمیان کسی قسم کے بھی روابط موجود نہیں ہیں ۔چاچڑان شریف خواجہ فرید کا مولد قصبہ ہے خواجہ فرید نے اپنی زندگی کے 18سال چولستان میں گذارے تھے اور والد کی وفات کے بعد ساڑھے تیرہ سال آپ قلعہ ڈیراورمیں بھی مقیم رہے یہی وجہ ہے کہ خواجہ فرید کے چاہنے والوں کی اکثریت دریا کے اس پار موجود ہے پل کی تعمیر سے روابط بڑھ جانے سے سیاسی طور پر تبدیلی یقینی ہے۔اور ان تبدیلیوں سے علاقے کی قسمت بدلے گی۔ایف ڈبلیو او کے لیفٹینٹ کرنل عاطف گلزار کا کہنا ہے پل کو اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا ۔پل کی لمبائی 1.33کلو میٹر ہے جبکہ دونوں اطراف 30کلو میٹر اپروچ روڈ تعمیر کی جا رہی ہے جو این 55کو۱ین5سے ملائے گی جبکہ دریا کے دونوں کنارے 21,21کلو میٹروال گائیڈز تعمیر ہو گی
