Feature Top (Full Width)

Saturday, 10 May 2014

عوام کے مال و جان کا تحفظ کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ متوقع سیلاب کی روک تھام کیلئے حفاظتی بندوں کو مضبوط کیا جائےڈی او سی


راجن پور(کرائم رپورٹر ) عوام کے مال و جان کا تحفظ کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ متوقع سیلاب کی روک تھام کیلئے حفاظتی بندوں کو مضبوط کیا جائے۔ پہلے سے تمام انتظامات مکمل کئے جائیں۔ یہ باتیں ڈی سی او راجن پور غازی امان اللہ نے ممکنہ فلڈ کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہیں۔ اِس موقع پر اے ڈی سی محمد امین اویسی ، ڈی او سی ارشد گوپانگ ، ضلعی افسران ، ای ڈی اوز ، سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈی سی او نے خطاب کرتے ہوئے کہا متعلقہ ادارے سیلاب سے بچاؤ کیلئے الرٹ رہیں۔ اپنی ذمہ داری کو قومی جذبہ اور دیانت داری کیساتھ سر انجام دیں۔ ڈی سی او نے پچھلے سال کے اچھے انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن سرکاری محکموں اور این جی اوز نے سیلاب کے دوران کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہیں اور اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ اچھے انتظامات کی وجہ سے مالی اور جانی نقصانات بہت کم ہوئے ہیں۔ اب بھی انشاء اللہ اُس سے بڑھ کر انتظامات کئے جا رہے ہیں تاکہ علاقہ کے لوگ محفوظ رہیں۔ ڈی سی او نے اِس سلسلہ میں کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ ضلع کے فوکل پرسن اے ڈی سی اور تحصیل سطح پر اے سی اپنے اپنے علاقہ کی نگرانی کریں گے۔ڈی سی اونے اس سلسلہ میں تمام افسران کو ہدایت کی کہ ایک دوسرے کیساتھ روابط رکھیں تا کہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی صورتحال سے بر وقت نمٹا جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع میں تین سیکٹر اور 16سب سیکٹر اور32ریلیف کیمپ لگانے کیلئے انتظامات مکمل کئے گئے ہیں

کنسٹریکشن ڈویثرن محکمہ انہاراضر کیا جائے مکمل سٹاف اور افسران غیر حاضر ہیں

 

راجن پور(کرائم رپورٹر ) کنسٹریکشن ڈویثرن محکمہ انہارکے افسرا ن او ر عملہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر راجن پور میں حاضر کیا جائے مکمل سٹاف اور افسران غیر حاضر ہیں۔تفصیل کے مطابق محکمہ انہار کے کنسٹرکشن ڈویثرن کے 90ملازمین کے بارے دلچسب خبر ہے کہ وہ عرصہ دراز سے اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کر رہے پورے کا پورا محکمہ ہی غیر حاضر ہے۔بتایا گیا ہے کہ 7,6سال قبل متعلقہ محکمے کے دفاتر اور رہائش گاہیں تعمیر کرائی گئیں تھیں مگر ان کے مکین ایس ڈی او،سب انجینئرز، آفس سپرینڈینٹ،ہیڈ کلرک،ایچ وی سی،جونئیر و سینئر کلرکس،نائب قاصد،چوکیدار،مالی،کک،خانساماں و دیگر عملہ جن کی تعداد 40کے قریب ہے جبکہ 50کے قریب سیزنل سٹاف و ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین شامل ہیں کو ان دفاتر میں کبھی نہیں دیکھا گیا جبکہ ان ملازمین کی تنخواہیں سرکاری خزانے سے جاری ہو رہی ہیں ٹی اے ڈی اے بلز، کوٹھیوں اور مکانات کی موجودگی میں ہاؤس رینٹ بھی نکلوائے جا رہے ہیں ۔ان دفاتر اور کوٹھیوں میں منشیات فروشوں رر کا بسیرا ہے ۔عوامی شکایات پر سابقہ کمشنر،اور چیف انجینئر نے ان ملازمین کو حاضر ہونے کے احکامات جاری کئے تھے تاہم بتایا گیا ہے کہ موجودہ ایس ای پراجیکٹ چیف انجینئر انہار ڈویثرن ڈیرہ غازیخان کو مذکورہ ملازمین بھتہ اور کچھ تنخواہ کا حصہ دے کر خاموش کروا دیتے ہیں اس بارے ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔سماجی کارکنوں محمد حسین،جاوید احمد،طارق حسین ،محمد اسماعیل ،عنایت حسین و دیگر کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملازمین مقامی نہ ہیں ان کی مستقل غیر حاضری سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے سیلاب کا سیزن شروع ہو رہا ہے جسکی وجہ سے ان ملازمین کی موجودگی ضروری ہے انہوں نے چیف انجینئر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا کہ غیر حاضر ان ملازمین کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان کی ملازمتیں ختم کر کے راجن پور کے رہائشی افراد کو ملازمتیں دی جائیں۔ایکسیئن انہار سے جب اس بارے موقف دینے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ غیر حاضر ان ملازمین کی شکایت سیکریٹری انہار کے پاس بھیج دی گئی ہے اور ان کے فیصلے کا انتظار ہے

راجن پور میں جمشید دستی کے دھرنے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں

 

راجن پور(کرائم رپورٹر ) سرائیکستان قومی اتحاد کے سینئر رہنماوں شعیب پنوار،جام فیض اللہ،محمد بخش میراٹھا ،سیف اللہ سونترہ اور فرخ شاہ بخاری نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں جمشید دستی کے دھرنے سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ایس کیو آئی کا نام استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے ان رہنماؤں نے کہا کہ راجن پور میں جمشید دستی کے دھرنے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہمارے کارکن اس میں شرکت کریں گئے ۔دھرنے کے منتظمین نے نہ تو ہمیں اعتماد میں لیا ہے اور نہ ہی مشارت کی ہے ۔جمشید دستی سرائیکیوں میں نفاق پیدا کر رہے ہیں اگر وہ سرائیکی قوم کے مخلص ہوتے تو وہ اپنے فیصلے قوم پر مسلط نہ کرتے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کیلئے کام کر رہے ہیں راجن پور کے عوام با شعور ہیں اور وہ اپنی قیادت پر اعتماد رکھتے ہیں ۔راجن پور کے عوام ایسے فیصلوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور جمشید دستی کے اجتجاج سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔اس موقع پر اسحاق لغاری،ملک رشید،فرید بخش دریشک،جام تنویر،میاں اللہ بخش،محسن گوپانگ و دیگر موجود تھے

نجاب حکومت کسانوں ایک ایک دنا گندم کی خریداری کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئیکار لارہی ہے ۔ تاکہ عوام کی سہولت کیلئے وافرمقدار میں گندم محفوظ کی جاسکے

راجن پور (کرائم رپورٹر )صوبائی وزیر خوراک پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کسانوں ایک ایک دنا گندم کی خریداری کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئیکار لارہی ہے ۔ تاکہ عوام کی سہولت کیلئے وافرمقدار میں گندم محفوظ کی جاسکے۔ اور کسانوں کے معاشی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان بروقت رقوم کی مکمل ادائیگی اور انہیں مڈل مین کے استحصال سے نجات دلانے کیلئے بھی ٹھوس عملی اقدامات کئے ہیں ۔ محمد اسلم سیکرٹری خوراک پنجاب ،ڈی سی اوراجن پورغازی امان اللہ کے ہمراہ ضلع راجن پورمختلف مراکز خرید گندم کا دورہ کیا ۔اس موقع پر ڈی ایف سی چوہدری فضل داد ،اسسٹنٹ کمشنر جام پور عبدالرؤف مغل،ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ شبیر احمد ،اسسنٹ فوڈ کنٹرولر امان اللہ مستوئی بھی موجود تھے ۔ صوبائی وزیر بلال یٰسین نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے وژن کے مطابق کسانوں کو گندم کے مناسب نرخ کی دستیابی کے ساتھ ساتھ انہیں منصفانہ اور شفاف بنیادوں پر باردانہ کی فراہمی ناپ تول میں گھپلو کی شکایات کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا گیا ہے ۔ اور صوبہ بھر کی تمام ضلعی انتظامیہ محکمہ خوراک کو واضع طور پر ہدایت کردی گئی ہے کہ اس اہم مشن میں کسی قسم کی غفلت کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف اضلاع میں وزراء صوبائی سیکرٹریز کی بھی نگران معائنہ کار ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں ہیں ۔ جو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو اپنی کارکردگی رپورٹس ارسال کرتی ہیں۔صوبائی وزیرخوراک بلال یٰسین نے ضلع راجن پور کے مراکز خریداری گندم پر کسانوں کیلئے کٹے جانیوالے انتظامات اور خریداری کے شفاف عمل پر ضلعی انتظامیہ اور ڈی سی او غازی امان اللہ کی کارکردگی کو سراہا اور کہاکہ ضلع راجن پور کے انتظامات نہایت تسلی بخش اور رول ماڈل ہیں ۔اس موقع پر ڈی سی او غازی امان اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق ضلعی انتظامیہ مقررہ اہداف کے حصول کیلئے مخلصانہ کاوشیں کررہی ہے ۔ اورضلع کا ٹارگیٹ مقرر وقت پر پورا کرے گی۔ قبل ازیں ڈی ایف سی فضل داد اور اے ایف سی امان اللہ مستوئی نے بتایا کہ ضلع راجن پور کا مقررہ اہداف 1لاکھ36ہزار میٹرک ٹن گندم خریداری کیلئے 13لاکھ60ہزار بیگ تقسیم کیا جارہا ہے ۔توقع ہے کہ 25مئی تک ٹارگیٹ حاصل کرلیا جائے گا۔

غیر معیاری اور مہنگا فرنیچر خریدنے کیلئے ای ڈی او تعلیم کا سرکاری سکولوں کے سربراہان پر دباؤ،ہیڈ ماسٹروں سے بلینک چیک مانگ لئے ،ہیڈ ماسٹروں کا چیک دینے سے انکارپر شو کاز نوٹس بھجوانے کی دھمکی

 

راجن پور (کرائم رپورٹر )غیر معیاری اور مہنگا فرنیچر خریدنے کیلئے ای ڈی او تعلیم کا سرکاری سکولوں کے سربراہان پر دباؤ،ہیڈ ماسٹروں سے بلینک چیک مانگ لئے ،ہیڈ ماسٹروں کا چیک دینے سے انکارپر شو کاز نوٹس بھجوانے کی دھمکی۔عوامی و سماجی حلقوں نے کمشز ڈیرہ غازی خان سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ راجن پور کے سکولوں کو فرنیچر فراہم کرنے کیلئے حکومت نے 8کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کئے گئے ہیں جو کہ متعلقہ سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کے اکاؤنٹ مین ٹرانسفر کئے جا چکے ہیں۔باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فرنیچر کی خریداری کیلئے ای ڈی او تعلیم راجن پور نے ٹیوٹا گوجرانوالہ سے معاہدہ کیااور اس ڈیل میں8فیصد کمیشن طے ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ٹیوٹا نے ایک غیر معیاری کمپنی سے فرنیچر تیار کرواکر بھجوادیا ہے جو کہ انتہائی ناقص اور مہنگا ہے ۔فرنیچر کی پے منٹ کرنے کیلئے متعلقہ سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں اور اے ای او ز کی میٹنگ بلائی گئی جس میں ان سے بلینک چیک لینے کی کوشش کی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ دو اے ای اوز نے اس غیر قانونی ڈیل کا حصہ بننے سے انکار کر دیا جس پر ان کو شو کاز نوٹس بھجوانے کی دھمکی دی گئی ہے ٹیچر وں نے کمشزڈیرہ غازی خان سے اس معاملہ کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے

رویے معاشرتی تضاد کا باعث بنتے ہیں تعلیم کے شعبہ میں سماجی ہم آہنگی پیدا کر کے ہی نظام تعلیم کو مفید بنایا جا سکتا ہے

 

راجن پور (کرائم رپورٹر )رویے معاشرتی تضاد کا باعث بنتے ہیں تعلیم کے شعبہ میں سماجی ہم آہنگی پیدا کر کے ہی نظام تعلیم کو مفید بنایا جا سکتا ہے ان خیالات کا اظہارسایہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تعلیم کے شعبہ میں ڈی سی او راجن پور کی زیر قیادت قائم ڈسٹرکٹ ورکنگ گروپ کے ممبران کی ’’سماجی ہم آہنگی اور یک جہتی‘‘کے عنوان سے ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈی ایم او تعلیم صفی اللہ نے کہا کہ ان پڑھ سے زیادہ کم پڑھے لکھے لوگوں نے سوسائٹی کو نقصان پہنچایاسماجی یک جہتی کے پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کیلئے سوشل پریشر کی ضرورت ہے پروگرام کوارڈینیٹر ساہی کے ماشاء اللہ نے کہا کہ حکومت یا ریاست سماجی یکجہتی کی کوششوں کے فروغ کو کامیاب بنا سکتی ہے طبقاتی نظام کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے اداروں کی انوالمنٹ سے بہتر نتائج مل سکتے ہیں ڈی ایل او شا ہنواز قاسمی نے کہاکہ غربت سب سے بڑا ایشوہے۔سایہ فاؤنڈیشن کے عبدالستار نے کہا کہ یکساں بنیادوں پر تعلیم کے حصول کے مواقع فراہم کئے جانے چاہیے۔یونیسیف کے آصف ابرار نے کہا کہ حقائق کی بنیاد پر نظام تعلیم کو فروغ دیا جائے۔دریں اثناء پرائمری ایجو کیشن کی سطح پر سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کیلئے ڈی سی او راجن پور کی قیادت میں ورکنگ گروپ کی تشکیل کر دی گئی ہے ای ڈی او تعلیم عبدالغفارخان کو فوکل پرسن اور شاہد لطیف کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے ورکنگ گروپ میں 22ممبران کو شامل کیا گیا ہے جس میں وکلاء،صحافی ،سول سوسائٹی،سماجی تنظیموں کے ارکان اور این جی او کے نمائندے شامل ہیں ۔ریاض آصف کو ممبر مقرر کیا گیا ہے

پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک مختلف ایشوز پر یکساں موقف رکھتے ہیںسردار شیر علی خان

 

راجن پور (کرائم رپورٹر) ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی خان نے علی اوست ہاشمی گورنر سیستان بلوچستان ایران ،سید مہدی بنی زادے ڈائریکٹر جنرل ساوتھ ایشیاوزارت خارجہ ایران اورمحمد حسین بنی اسدی کونسل جنرل اف ایران پنجاب کے ہمراہ آئے 4رکنی وفد سے پنجاب اسمبلی کے کانفرنس روم میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی سردار شیر علی خان گورچانی نے علی اوست ہاشمی گورنر سیستان بلوچستان ایران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک مختلف ایشوز پر یکساں موقف رکھتے ہیں اور ان ممالک کے عوام آپس میں محبت اور بھائی چارے کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون بڑھا کر دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے ۔اس حوالے سے حکومت ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو سفارتی سطح پر تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی کاوشوں سے بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ ملک بھرمیں انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا رہا ہے ۔ موجودہ حکومت نے توانائی ، لائیوسٹاک ، زراعت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول مہیا کیا ہے جس کی وجہ سے ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا اور روز گار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔شیر علی خان گورچانی نے پنجاب حکومت کی جانب سے حاجی پور ضلع راجن پور میں 20بیڈز پر مشتمل ہسپتال قائم کرنے کے لئے 67.5ملین روپے کی خصوصی امداددینے پر ایران کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ۔ یہ ہسپتال جون 2014تک مکمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر علی اوست ہاشمی گورنر سیستان بلوچستان ایران نے پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کی وسعت اور گہرائی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا معاشی تعاون سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی میں مزید اضافہ ہو گا ۔ سید مہدی نبی زادے ڈائریکٹر جنرل ساوتھ ایشیاوزارت خارجہ ایران نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حکومت کے ساتھ ملکر دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔محمد حسین بنی اسدی کونسل جنرل اف ایران پنجاب نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت کی بدولت پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے

 

Subscribe to our Newsletter

Contact our Support

Email us: youremail@gmail.com

Our Team Memebers